شہر ’’حجر‘‘ کی رنگین ،مدہوش اور پُرتعیش رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ موج مستی، رقص و سُرود، شراب و کباب کی محفلیں عروج پر تھیں۔ محلّات سے بازاروں تک، گھروں سے گلی کُوچوں تک، صحرائوں سے میدانوں تک غیراخلاقی حرکات اور مکروہ دھندوں نے احترامِ آدمیت کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی تھیں۔ مال و دولت کی فراوانی اور نعمتِ خداوندی کی کثرت نے شہر کے باسیوں کو اللہ سے غافل کردیا تھا اور شیطان اُن کی حیوانی خصلتوں پر قابض ہوچکا تھا۔ یہ اُن کا روز و شب کا معمول تھا، حکم عدولی اور نافرمانی اُن کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔
ہاں، اگر کوئی نئی بات تھی، تو وہ اللہ کے نبی، حضرت صالح علیہ السلام کا یہ فرمان تھا کہ ’’اے میری قوم! تمہارے پاس عیش و عشرت کے لیے صرف تین دن بچے ہیں۔ اس کے بعد تم پر سخت ترین عذاب آجائے گا۔‘‘ (سورئہ ہود، آیت65)۔ قوم کی اکثریت نے اپنے نبی ؑ کی اس بات کو بھی ماضی کی طرح ہنسی مذاق اور طنزو استہزاء میں اُڑا دیا۔ تاہم، اُن میں سے کچھ ایسے ضرور تھے، جو اپنے نبی ؑکی پیش گوئی سُن کر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوگئے تھے، مگر اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ وقت کا بے رحم پہیّہ نہایت تیزی سے ایک بھیانک صبح کی جانب رواں دواں تھا۔ رات بھر کی موج مستی سے تھکے ہارے لوگ اپنے اپنے گھرجانے کو تھے کہ اچانک انھیں ایک بڑے زور کی چنگھاڑ کی صورت میں عذاب نے آپکڑا۔ (سورئہ ہود،67)۔
اس زور دار سخت ترین چیخ نے اُن سب کے کانوں کے پردے پھاڑ دیے اور اُن کے دل پارہ پارہ ہوگئے۔ ابھی چنگھاڑ کا عذاب ختم بھی نہ ہونے پایا تھا کہ ’’ایک شدید ترین زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (سورۃ الاعراف، آیت 78)۔ اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ (سورئہ ہود، آیت68)۔ یوں اللہ تعالیٰ نے نافرمان اور متکبّر قومِ ثمود کو ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بناکر رہتی دنیا تک کے مغرور، بداعمال اور نافرمان لوگوں کو متنبہ فرما دیا کہ نہ صرف آخرت بلکہ دنیا میں بھی تمہارے لیے سخت ترین عذاب موجود ہے۔
ثمود کی بستی اور حضورؐ کا حکم:حضرت ابنِ عمرؓ اور حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے کہ غزوئہ تبوک کے لیے جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر (قومِ ثمود کی بستی) میں پڑائو کیا، تو صحابہؓ نے وہاں کے کنوئوں کا پانی اپنے برتنوں میں بھرلیا اور اسی سے آٹا بھی گوندھ لیا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے برتنوں میں بھرنے والا پانی انڈیل دیں اور گوندھا ہوا آٹا جانوروں کو کھلا دیں۔
پھر آپؐ نے فرمایا کہ اس کنویں سے پانی لیں، جس سے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ (صحیح بخاری،3378-3379) قومِ ثمود جیسی عظیم الشّان قوم کی تباہی و بربادی سے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا کیا تعلق تھا؟ اس پر بات کرنے سے پہلے اس بدنصیب قوم کے مختصر احوال سے واقفیت، موجودہ دور کے بنی نوع انسان کی بداعمالیوں اور نافرمانیوں کی روشنی میں ضروری ہے۔ اے کاش! ہم سب اس واقعے سے کچھ عبرت حاصل کرسکیں۔

